ایک روپیہ اور قسمت کا دروازہ

Umair Butt
0

 

aik rupeya

ریاض ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔  وہ غریب ہونے کے باوجود بہت زیادہ محنتی تھا، اس کی زندگی کے ہر دن میں جدوجہد موجود تھی۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ماں باپ کو غربت سے نکالنا چاہتا تھا، مگر وسائل نہ ہونے کے باعث وہ ہوٹل میں کام کرنے پر مجبور تھا۔


وہ ایک پرانی چپل اور قمیص پہن کر صبح ہوٹل پر آ جاتا، جہاں وہ لوگوں کو چائے پیش کرتا تھا اور ساتھ میں ہوٹل کی صفائی بھی کرتا تھا۔ زندگی کے اس معمول میں اس معمولی سی نوکری کے دوران بھی وہ مکمل دیانتداری اور ایمانداری سے کام کرتا تھا۔ 


ایک دن بوسیدہ کپڑے والا بوڑھا شخص ہوٹل میں ايا جس کا چہرہ پرنور تھا۔ چائے کا آرڈر دیتے ہوئے اس کی جیب سے ایک روپیہ گر گیا۔ ریاض نے سکہ اٹھایا اور ادب کے ساتھ بابا جی کو دیا، اور کہا آپ کا روپیہ گر گیا تھا۔


بوڑھے شخص نے مسکرا کر ریاض کو دیکھا اور ہری سانس لیتے ہوئے پوچھا، اگر تو چاہتے تو یہ ایک روپیہ رکھ سکتے تھے، مگر تم نے ایمانداری دکھائی، مگر کیوں


ریاض نے مسکراتے ہوئے کہا، شاید یہ ایک روپیہ میرے کسی کام نہ آتا، لیکن یہ آپ کا حق تھا، اور میں نے کبھی کسی کا حق لینا نہیں سیکھا۔


بوڑھا شخص خاموش رہا، اور ریاض کو اپنی جیب سے ایک کارڈ نکال کر دیا اور کہا، بیٹا میں ایک فیکٹری کا مالک ہوں، اور میں ہمیشہ ایماندار لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ کل میرے آفس آ جانا، اگر تم واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہو۔


ریاض نے حیران ہوتے ہوئے بابا جی کا شکریہ ادا کیا مگر اس کو دل ہی دل میں یہ ایک رسمی سی بات لگی۔ خیر اس کے والد نے اسے سمجھایا قسمت دروازہ خود نہیں کھٹکھٹاتی، اسے کھولنا پڑتا ہے۔


اگلے دن جب وہ فیکٹری پہنچا تو دروازہ دیکھ کر حیران رہ گیا، کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی کمپنی تھی، جہاں ہزاروں لوگ برسرروزگار تھے، اندر جا کر جب وہ بوڑھے شخص سے ملا، تو وہ مسکرا کر کہنے لگا میں جانتا تھا کہ تم آؤ گے۔ آج سے تم ہماری کمپنی میں ملازمت کرو گے اور جو جو کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے، میں تم کو وہ سب سکھاؤں گا۔


ریاض یہ منظر دیکھ کر رونے لگا، ایک معمولی ہوٹل میں کام کرنے والا انسان آج ایک بہت بڑی کمپنی میں شامل ہو چکا تھا۔ سب کچھ صرف ایک روپے کی ایمانداری کی بدولت!۔


زندگی میں اکثر ایک چھوٹا سا عمل، قسمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)
To Top